show

1

Blogger Widgets

Friday, February 8, 2013

150. آئے موسم سہانے !!!!

Only 1 Minute.
Read my new article.
 آئے موسم سہانے !!!!
Give your suggestions and Comments.


ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺍﮐﮭﺎﮌﮮ ﮐﮯ ﮐﮭﻼﮌﯼ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺯﻭﺭ
ﺁﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮯﭼﯿﻦ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ. ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﺗﯿﺰ ﮐﯽ ﺟﺎ
ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﭘﮭﺎﻧﺴﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﺖ ﻧﺌﯽ
ﺗﺮﮐﯿﺒﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﺑﭽﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺯﻭﺭ ﻭ ﺷﻮﺭ ﺳﮯ ﺟﺎﺭﯼ
ﮨﯿﮟ.

ﺍﮔﺮﭼﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﻓﯽ ﺍﻟﺤﺎﻝ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﯽ
ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ. ﻧﺌﮯ ﻧﻌﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﻟﯿﮉﺭﺍﻥ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ
ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﺭﮐﻨﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﻧﮑﯽ ﻧﺌﯽ ﭘﻮﺯ ﻣﯿﮟ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﺑﮭﯽ
ﮐﮭﯿﻨﭽﻮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﮨﺪﺍﯾﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﺟﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺟﺎ
ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﻧﺌﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺑﯿﭽﻨﮯ
ﻣﯿﮟ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ
ﺍﻧﮑﯽ ﮨﻨﺴﺘﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﮨﻼﺗﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺗﻮ ﻣﯿﺴﺮ
ﮨﻮﮞ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻥ ﭼﻨﺪ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﻭﭨﺮ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ
ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﺍﻥ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﮐﮯ ﺯﺭﯾﻌﮯ ﮨﯽ ﮨﻮﮞ
ﮔﯽ.

ﻧﻠﮑﺎ، ﻧﺎﻟﯽ، ﺗﮭﺎﻧﮧ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮩﺮﯼ ﮐﮯ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﻧﻌﺮﻭﮞ ﮐﻮ
ﺑﮭﯽ ﻃﺎﻕ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺟﮭﺎﮌ ﭘﮭﻮﻧﮏ ﮐﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ
ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭﯾﺎﮞ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ
ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ. ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﮐﯽ ﺭﯾﺸﮧ
ﺩﻭﺍﻧﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﺎﺍﮨﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ
ﺭﺍﮒ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﭘﻠﮏ ﺩﺭﺳﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ.

ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﮐﯽ ”ﻟﺘﺮﯾﺸﻦ” ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﻮﺗﻮﮞ ﮐﻮ
ﺑﮭﯿﮕﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ
ﮐﺎﺭﺧﯿﺮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺣﺼّﮧ ﺑﻘﺪﺭﺟﺜﮧ، ﻣﺬﮨﺒﯽ ﯾﺎ ﻟﺒﺮﻝ ﻭﻏﯿﺮﮦ
ﺟﯿﺴﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺮﻁ ﻋﺎﯾﺪ ﻧﮩﯿﮟ.

ﺩﯾﻨﯽ ﺟﻤﺎﻋﺘﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﭘﺮ ﮐﻔﺮ ﮐﯽ ﯾﻠﻐﺎﺭ، ﻣﻠﮏ ﺳﮯ
ﺑﮯﺷﺮﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮯﺣﯿﺎﺋﯽ ﮐﮯﻣﺮﺍﮐﺰ ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻨﯿﻤﺎ ﮔﮭﺮ،
ﻣﺨﻠﻮﻁ ﺗﻌﻠﯿﻤﯽ ﺍﺩﺍﺭﻭﮞ، ﺑﺎﻗﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﮐﯽ
ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﻧﻮﺍﺯﯼ، ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻗﻠﻌﮧ ﻣﯿﮟ ”ﮈﯾﻨﭧ”
ﮈﺍﻟﻨﮯﮐﮯﻟﺌﮯ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﮔﭩﮫ ﺟﻮﮌ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺗﻤﺎﻡ
ﺳﯿﺎﺳﺘﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ ”ﻧﻔﺎﻕ” ﮐﻮ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﺑﺤﺚ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ
ﻟﺌﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﯿﮟ.
ﻭﮦ ﺟﻤﺎﻋﺘﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﻭﺍﺭﺩ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ
ﭘﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﺑﮍﯼ ﺟﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﺍﺭﺍﮐﯿﻦ ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ
ﻧﻮﺧﯿﺰ ﺿﺮﻭﺭ ﮨﻮﮔﯿﺌﮟ ﮨﯿﮟ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﺑﻮﺗﻠﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﯿﺎ ﻟﯿﺒﻞ
ﭼﺴﭙﺎﮞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﻣﺎﻝ ﭼﮭﻮﮌﻭ ﻧﯿﺎ ﻣﺎﻝ ﺁﺯﻣﺎﺅ ﮐﮯ
ﺩﻟﮑﺶ ﻧﻌﺮﮮ ﮐﯽ ﻣﺎﺭﮐﯿﭩﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﻋﻤﻞ ﮨﯿﮟ.

ﺍﺱ ﻣﻮﺳﻢ ﮐﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﻭﮦ ﭼﯿﺰ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺍﮐﺜﺮ
ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺁﭘﮑﻮ
ﺍﺳﭩﯿﺞ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺭﭘﮩﻨﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﮔﯽ.
ﺁﭖ ﺳﮩﯽ ﭘﮩﭽﺎﻧﮯ ﺫﮐﺮ ”ﻟﻮﭨﻮﮞ” ﮐﺎ ﮨﯽ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ!!
ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﻧﮑﯽ ﻣﻨﮉﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﯿﺰ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ

ﺟﺘﻨﯽ IMF ﮐﺎ ﻗﺮﺿﮧ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﺳﭩﺎﮎ
ﺍﯾﮑﺴﭽﯿﻨﺞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ، ﮨﺮ ﺳﯿﺎﺳﯽ
ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺑﮍﮪ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯿﺎﮞ ﻟﮕﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﮍﮮ
ﺩﮬﻮﻡ ﺩﮬﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ
ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﻟﻮﭨﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ
ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﮯ ﭘﯿﻨﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮑﻨﮯ
ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ
ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺮﺻﮯ ﭨﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ. ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺩﮬﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺩﮬﺮ!

ﻣﻠﮏ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﭨﻮﻟﮧ ﯾﻌﻨﯽ
ﺍﻓﻮﺍﺝ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﺎﺩﯼ ﺍﻟﻨﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﺳﮯ ﮐﻨﺎﺭﮦ
ﮐﺶ ﮨﯽ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﭘﺮ ﺍﺱ ﭘﺎﺭﮦ ﺻﻔﺖ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﺎ
ﮐﭽﮫ ﭘﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﮐﮧ ﮐﺲ ﻭﻗﺖ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ “ﻭﺳﯿﻊ ﺗﺮ
ﻗﻮﻣﯽ ﻣﻔﺎﺩ” ﺍﻧﮑﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﻤﺴﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ
ﺍﻭﺭﺳﯿﺎﺳﺘﺪﺍﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﯿﮑﻮﺭﭨﯽ ﺭﺳﮏ، ﮐﺮﭘﺸﻦ
ﺍﻭﺭﻧﺎﺍﮨﻠﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻟﺰﺍﻣﺎﺕ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺁﭨﮫ ﺩﺱ ﺳﺎﻝ
ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮏ
ﭼﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﭨﮭﯿﮑﮧ ﺑﺎ ﺍﮐﺮﺍﮦ ”ﺑﻘﻠﻢ ﺧﻮﺩ” ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻟﯿﺎ
ﺟﺎﺋﮯ. ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﺪﺍﺭﮨﻮﺳﮑﺘﯽ
ﮨﮯ!!!

ﻣﯿﮉﯾﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﯿﻠﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﯿﺎ ﻣﺴﺎﻟﮧ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ
ﻭﻗﺖ ﭘﮍﻧﮯ ﭘﺮﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﺑﮭﺴﺲ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮑﯽ ﺟﺎ
ﺳﮑﯿﮟ. ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺳﮑﺮﯾﻨﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﮐﮯ
ﺳﯿﺎﺳﯽ ﻣﯿﭻ ﮐﺮﻭﺍ ﮐﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺗﻔﺮﯾﺢ ﻃﺒﻊ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ
ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺑﮭﯽ. ﺳﯿﺎﺳﺘﺪﺍﻥ ﺍﻧﮩﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﯿﺎﺳﺘﺪﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﺁﮔﮯ
ﻧﮑﻞ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻤﯿﺰ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﮐﻮﻥ ﮐﺴﮯﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺭﮨﺎﮨﮯ.

ﺍﺩﮬﺮﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ
ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﺲ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﻣﻨﻊ ﮨﮯ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ
ﺳﻤﺠﮭﺪﺍﺭ ﮨﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺗﻮ ﭘﺮﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻗﻠﻢ ﺭﮐﺘﺎ ﮨﮯ.

اخبارات ﺑﮭﯽ ﻧﺌﯽ ﻧﺌﯽ ﺗﺎﺭﯾﺨﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﻭﺯ ﻧﯿﺎ
ﺍﯾﮉﯾﺸﻦ ﻟﮯ ﺁتے هیں ﺟﻨﮑﯽ ﺗﻮﺟﯿﺤﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﻭﯾﻼﺕ ﮬﺮ ﺑﺎﺭ
ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ. ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ
ﺩﮬﮍﮐﻦ، ﺟﻮﮌ ﺗﻮﮌ، ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺟﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﺭﻭﻧﯽ
ﺍﺗﮭﻞ ﭘﺘﮭﻞ، ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﺌﯽ ﮐﺎﭦ، ﺟﻠﺴﮯ ﺟﻠﻮﺳﻮﮞ
ﮐﯽ ﺑﺮﺳﺎﺕ ﺑﯿﺎﻧﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﺰﺍﻣﺎﺕ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﻮ
ﮔﺌﯽ ﮨﮯ. ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﺎﺕ ﮐﺎﻣﻮﺳﻢ ﻗﺮﯾﺐ ﺁ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ!
You can join me on Facebook also
http://www.facebook.com/pages/DR-Furqan-Ali-Khan/251362514875967?ref=ts&fref=ts
Regard,
Furqan Ali Khan .
08.02.2013

Thursday, February 7, 2013

149. Hunger protest of YDA against brutal act of Mian Sahbaz Shareef.

Only 1 MInute.
Must read this News and see the link which i am sharing with you.
You have a right to do comment and can give suggestion but no right for harsh and abusive language.Hope that you will act like a civilized peoples.
I am a citizen of Pakistan and i have a right to ask you (CM Mian Sahbaz shareef) Questions and you have to answer these,Because my Vote able you to stand in parliment.Please donot forget this.
THe Young Doctor Association is on Hunger strike from 4 days against the Brutality of CM and Government of Punjab.
They can spend billion dollars on the road but not a single peny for Education and Hospitals.They were saying that this is a propagenda against there government .if it is a propagenda then i have a Question to Mian Shabaz Sahib that why not they are coming or sending there delegation to prove there self wrong.THousand of Doctors (Cream of Pakistan ) is sitting on roads and doing this strike.
It is a matter of great regret CM (Sehbaz shareef sahib).
It is easy to talk as you did but difficult in practical life.
Please stand infront of mirror and see yourself , your soul will not forgive you ever on your selfish acts.
I know that so many peoples feel bad on my this article.But if you are disagree with me then come and talk on facts please.
PLease click on these links and see the full programmes with Luqman.
http://www.youtube.com/watch?v=kSIkBOpJ-5c
http://www.baaghi.tv/baaghi_web_tv_news_list.php?id=37&sub_id
Regard.
Furqan Ali Khan.
07.02.2013

Sunday, February 3, 2013

148. ٹمبکٹو۔اک شہر تھا عالم میں انتخاب

Only 1 Minute.
Must read and Share it.

ٹمبکٹو۔اک شہر تھا عالم میں انتخاب


یہ سولہویں صدی عیسوی کا ایک شہر ہے۔اس کی ایک یونیورسٹی میں مختلف رنگ و نسل کے ہزاروں طلبا ریاضی ، طب ، فلکیات اور سائنسی علوم کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ عرب زباں کا ایسا دور دورہ ہے کہ عرب اہلِ زباں بھی شرما جائے۔ کتب خانوں میں لاکھوں کتا بیں موجود ہیں جن میں سے کئی قدیم اور نایاب ہیں ۔ پوری دنیا سے دینی کتب کے قدیم نسخے ایک شہر میں لا کر جمع کیے جا رہے ہیں ۔پورے علاقے میں تجارت کا سب سے بڑا مرکز یہاں پر ہے ۔باہر سے آنے والا مسافر عالی شان مساجد کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے تو ساتھ ہی نمازیوں کی پوشاکیں ایسی کہ منہ کھلے کا کھلا رہ جاتا ہے ۔سونے کی تجارت جتنی یہاں دیکھنے میں آرہی ہیں ، مسافر نے شرق و غرب کے کسی علاقے میں نہیں دیکھی ۔۔اس شہر کے ایک بادشاہ نے آج سے 200 سال پہلے سفرِ حج کیا تھا تو تو اس کے ہمراہ 60 ہزار افراد تھے جن کی خدمت کے لیے 12 ہزار غلام تھے ۔بادشاہ کے زادِ راہ میں 1 لاکھ 80 ہزار کلو سونا تھا ، یہ عظیم الشان قافلہ جہاں جہاں سے گزرتا گیا ، وہاں دولت کی ریل پیل ہوگئی ۔کوئی غریب نہ رہا ۔قاہرہ ، مکہ اور مدینہ میں سونا اتنا زیادہ ہو گیا کہ اس کی قیمت ہی گر گئی ۔ کوئی بستی ایسی نہ رہی جہاں اللہ کا گھر نہ ہو ۔کہا جاتا ہے کہ بادشاہ نے ہر جمعہ کے دن ایک مسجد کی تعمیر کروائی ، بعض ایسی شاندار کہ آج بھی قائم و دائم ۔شہر کے لوگوں کا رہن سہن ایسا پُر شکوہ کہ اندھیروں میں ڈوبے یورپ کے لوگ اس شہر تک پہنچنے کے خواب دیکھتے ہیں لیکن یہاں اہلِ توحید کے سوا سب کا داخلہ ممنوع ہے ۔600 سال تک اسکی ریتلی مٹی پر کسی مشرک کا قدم نہیں پڑا ۔یہ ایک ایسا شہر ہے کہ آج بھی اسکا نام ناقابلِ پہنچ کا استعارہ ہے ۔آپ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ یہ برِ صغیر پاک و ہند کا کوئی عظیم شہر ہے ، یا شاید جزیرۃ العرب کا کوئی حصہ ہوگا ، نہیں تو شاید ثمر قند و بخارہ کی بات ہورہی ہے ۔ جی نہیں !! یہ شہر مغربی افریقہ میں عظیم الشان صحارا کے وسط میں واقع ایک شہر کا نام ہے جسے" ٹمبکٹو "کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جو لوگ اس نام سے واقف ہیں ، ان میں سے کئی ایسے بھی ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ ٹمبکٹو کسی دیو مالائی جگہ کا نام نہیں ، بلکہ موجودہ مالی کا ایک شہر ہے ۔ افریقہ جس کا نام سنتے ہی ذہن میں غربت ، بھوک او ربیماری کا تصور آجاتا ہے ۔ اس کی تاریخ میں ایک ایسے شہر کا وجود ایک عمرانیاتی معجزے سے کم نہیں

لیکن یہ اسلام کا ہی طرہِ امتیاز ہے کہ یہ جب کسی قوم کی زندگیوںمیں داخل ہوتا ہے تو صدیوں کے غلام آزادی کی فضا میں سانس لینے لگتے ہیں۔ جہالت کی تاریکیوں سے روشنی کے علمبردار نکلتے ہیں ۔ رنگ و نسل کے سب پردے گر جاتے ہیں ۔ شہروں میں گلستاں اُگ جاتے ہیں اور بے آب و گیاہ زمین سے علم کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔

ٹمبکٹو شہر کی بنیاد گیارہویں صدی عیسوی میں پڑی جب توارگ چرواہوں نے گرمیوں میں اپنے جانوروں کو بیماری سے بچانے کے لیے اس جگہ کا انتخاب کیا۔یہاں کی آب و ہوا صحارا کے باقی علاقوں کی نسبت کافی اچھی تھی اور میٹھے پانی کے کافی کنویں بھی موجود تھے ۔آہستہ آہستہ یہ شہر تجارتی قافلوں کے لیے مرکزی اہمیت اختیار کرگیا ۔مالی کا علاقہ سونے کی کانوں کی وجہ سےہمیشہ سے مشہور رہا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹمبکٹو پورے شمالی اور مغربی افریقہ میں سونے کی تجارت کا مرکز بن گیا۔اسلام اس خطے میں آٹھویں صدی سے ہی پہنچ چکا تھا، ٹمبکٹو میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ کئی مساجد تعمیر ہوگئیں۔

۱۳۲۵میں سلطنت ِ مالی کا عظیم بادشاہ مانسہ موسیٰ اوّل سفرِ حج سے واپس آیا تو اس نے ٹمبکٹو میں پڑاوَ کیا ۔اپنے اس سفر کے دوران موسیٰ اوّل نے ہر شہر میں ایک مسجد تعمیر کروائی ۔ٹمبکٹو پہنچ کر اس نے اپنے چیف انجینئر ابو اسحاق الایحلی اندلسی کو پورے مغربی افریقہ کی سب سے بڑی مسجد بنانے کی ہدایت کی اور اسکا معاوضہ 200 کلو سونا مقرر کیا ۔چناچہ بادشاہ کے اس حکم کے مطابق مسجد الکبیر کی تعمیر کی گئی جو کہ پچھلے سات سو سال سے اپنے جاہ و جلال کے ساتھ موجود ہے اور آج بھی ٹمبکٹو کی مرکزی مسجد کی حیثیت رکھتی ہے۔موسیٰ اوّل کے اس سفرِحج کے بعد مالی اور ٹمبکٹو دونوں کو اسلامی دنیا میں کافی شہرت حاصل ہوئی ۔مسجد الکبیر کے علاوہ بادشا نے ایک بہت بڑی جامعہ بھی قائم کی جس کو سنکورے مدرسہ یا جامعہ ٹمبکٹو کہا جاتا ہے۔چودہویں سے سولہویں صدی تک جامعہ ٹمبکٹو مسلم دنیا کی بہترین جامعہ مانی جاتی تھی جس کے فارغ التحصیل علما تیونس، قاہرہ، مراکش اور موریتانیا میں پڑھانے جاتے تھے ۔یہاں کا معیار اتنا اونچا تھا کہ بعض اوقات عرب ممالک سے پڑھ کر آنے والے اساتذہ کو بھی منتخب نہیں کیا جاتا تھا۔ٹمبکٹو کی سنکورے لائبریری اسکندریہ کی لائبریری کے بعد افریقہ کی دوسری بڑی لائبریری تھی جس میں سات لاکھ سے زائد کتابیں تھیں ۔سلطنتِ مالی کی سرکاری زبان عربی تھی اور جامعہ ٹمبکٹو میں بھی عربی میں ہی تعلیم دی جاتی تھی ۔اسکے نصاب میں تفسیرِ قرآن ، حدیث، فقہ، اصول، منطق اور عقیدے کے ساتھ ساتھ ریاضی، کیمیا، فزکس، فلکیات کے علاوہ تجارت کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔یقیناً اسکا موازنہ آج کے دور کی کسی بھی یونیورسٹی سے کیا جا سکتا ہے ۔

قرونِ وسطی کے عالمِ اسلام میں سلطنتِ مالی اور ٹمبکٹو کو خصوصی مقام حاصل ہے ۔یہاں کے حکمرانوں نے نا صرف باقی دنیا کے مسلمانوں کی معاشی مدد کی بلکہ انہوں نے تمام عالمِ اسلام سے طلبہ کو خوش آمدید کہا ۔جامعہ ٹمبکٹو میں 25 ہزار طلبہ زیرِ تعلیم تھے جبکہ اس کے علاوہ ٹمبکٹو میں 150 کے قریب چھوٹے مدارس بھی قائم تھے جہاں علما اپنے طلبہ کو کسی خاص شعبہ میں تخصیص کرواتے تھے۔ٹمبکٹو کے کتب خانوں میں اسلامی دنیا کی بیش بہا قیمتی کتابیں موجود تھیں ۔ابنِ بطوط اور حسن الوزن جیسے مشور سیاحوں نے اس اس علاقے کا سفر کیا اور یہاں کے علمی ماحول اور عربی زبان سے محبت کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔الوزن لکھتے ہیں کہ اس دور میں کتاب کی سب سے زیادہ قیمت ٹمبکٹو میں ملتی تھی اس لیے پوری مسلم دنیا سے لوگ یہاں کتابیں فروخت کرنے آیا کرتے تھے۔سنکورے لائبریری کے علاوہ بھی ٹمبکٹو میں کئی لوگوں کے ذاتی کتب خانے بھی موجود تھے جہاں کافی نایاب کتب موجود تھیں۔

سولہویں صدی کے اختتام سے لیکر اٹھارویں صدی کے وسط تک ٹمبکٹو پر مراکش کی جانب سے مور حملہ آوروں نے کئی حملے کیے اور ٹمبکٹو کا امن تباہ ہوگیا ۔حکومتوں کی بار بار تبدیلی کا اثر یہاں یہاں کے مدارس اور جمعیت پر ہوا۔کئی بڑے بڑے علما کو قتل یا بے دخل کر دیا گیا جس وجہ سے علم اور روشنی کا یہ سورج آہستہ آہتہ غروب ہوگیا۔

۱۸۳۷میں پہلی مرتبہ ایک غیر مسلم رین کائیل اس شہر میں داخل ہوا تو اس کی امارت کی حالتِ زر دیکھ کر کافی مایوس ہوا کیونکہ یورپ کی نظر میں ٹمبکٹو ایک سونے کی چڑیا کا نام تھا جس تک وہ کبھی نہ پہنچ سکے تھے اور شہر کی یہ حالت اُس کے لیے غیر متوقع تھی ۔اس کے باوجود وہ یہ محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا کہ شہر کہ تمام تر آبادی حافظِ قرآن تھی۔ٹمبکٹو کا سنہری دور بے شک گزر چکا تھا مگر تقوی اور علم دوستی کی فضا تب بھی قائم تھی

آج کا ٹمبکٹو اپنے تمام تر پُر شکوہ ماضی، سحر انگیز عمارات اور علم دوست آبادی کے ساتھ بد امنی ، غربت اور بدحالی کا شکار ہے ۔شمالی مالی میں انصار الدین اور آزاواد اسلامک موومنٹ کے مجاہدین شریعہ کے نفاذ کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں جبکہ فرانس بھی اپنے تمام تر اسلحہ اور تکبر کے ساتھ اس جنگ میں شامل ہوچکا ہے ۔جس طرح یہ خطہ چھ صدیوں تک مشرکین کے ناپاک قدموں سے دور رہا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو اہلِ شرک کے تسلط سے محفوظ رکھے اور اس کے مکینوں کو ایک بار پھر شریعتِ اسلامی سے بہرہ مند فرمائے ۔آمین

You can join me on Face book also.

http://www.facebook.com/pages/DR-Furqan-Ali-Khan/251362514875967?ref=hl
Regard.
Furqan Ali khan.
03.02.2013

Saturday, February 2, 2013

147. جاگیردارانہ مافیائی جمہوریّت کا تحف

Only 1 Minute.
Must read and Share it.
جاگیردارانہ مافیائی جمہوریّت کا تحفہ
پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کی شرح بہت بلند ہوچکی ہے اور اب یہ خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔
:
پاکستان کی آدھی سے زائد آبادی خوراک کے عدم تحفظ، خون کی کمی، اور ناکافی غذائیت کی شکار ہے۔ یہاں تک اُن کیلئے بھی جو روزانہ ایک ڈالر سے بھی کم کماتے ہیں اورجن کی کھانا صرف ایک نان یا چپاتی اور چائے پر مشتمل ہوتا ہے اور یا وہ مرچ اور پیاز پر گزارہ کرتے ہیں۔

پاکسان میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں خوراک کی کمی سب سے ذیادہ ہے ۔ وہاں 67.7 فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کی شکار ہے۔ اس کے بعد صوبہ بلوچستان ہے جہاں یہ شرح 61.2 فیصد ( جبکہ ڈیرہ بگٹی میں سب سے ذیادہ بلند ہے اور وہاں 81.2 فیصد آبادی کو خوراک کے معاملے میں تحفظ حاصل نہیں) ہے۔ خیبر پختونخواہ میں یہ شرح 56.2 فیصد ہے جبکہ سندھ ااور پنجاب میں صورتحال کچھ بہتر ہے
Regard.
Furqan Ali Khan.
02.02.2013

Friday, February 1, 2013

146. Where are the Teachers of Govt Schools ? Who is responsible ? Govt,Teacher or our Society.

Only 1 Minute.
Must think and Share .This is Truth,I mention these places ,Go by yourself and see.
Today the Topic is

 Where are the Teachers of Govt Schools ?

Who is responsible ?

Govt,Teacher or our Society.

The Data is as under :

The population of Pakistan is 18 Crore.

Govt Schools : 226600

Admit Students : 38031700

Teachers : 1309500 


It is a matter of Great regret that In Govt Schools there is no facilities at all and no proper educational system for these poor peoples or so called students of Govt School.
Is our Govt is Sleeping.We all are paying taxes and we want to make our new generation future bright but what type of Brightness we are giving to them ?
Why we are not asking to the teachers and Govt for this Cruelity ?
It is better to Kill the Society instead of letting them illiterate.

According to my research work, Take example of Govt School in Far Rural area of Thaatha Village

It is a Govt primary School,Goth khan muhammad Lashari Thaatha. It is not looking like a School ,It look like a ancient ruins of Mohenjodaro and same on the faces of these innocent childrens who are coming there for the hope of education.Teachers they never used to come to the School but in the register of attendence they are present and getting there pay on time.This school is 1 room and all 5 classes how they can manage.If some one is taking an action against them they are going to there local MNA or MPA .
High authorities they never bother to Visit these places , and who care for these innocent faces who have a dreams of becoming doctors but these Corrupt system,Teachers,Govt and Society never bother this.
How they will bother ?
The Childrens of these High authorities are studying in Good institutes and why they will care about them.
Who these Childrens are for them ?

Take an example of another School near to that  Govt Primary School Gooth Baat Jagir .

There is no Furniture in these Schools,Teachers never visit Schools but still they are getting a green signal as our Corrupt politicians are getting.
In this region ,there are many Govt Schools but the Story is same as i mention earlier.

No body Bothers.

If asking from the Provincial Educational Minister Phir Mazhar Ul Haq ,They are telling there own problems.
I never understand that all problem happen in Pakistan always. In the past 68 years what we achieve ?
I will tell you that what is our achievement .

Illiteracy,Poverty,Corruption,terrorism,Religious Sects,Unjustice, and go on.

No politician never think about Pakistan .
Why all corrupt Politicians are in our fate ?

This problem is not only in rural areas, same the case with the Urban area Govt Schools.
I will give you the example of School in Karachi

Aleemiya Govt Girls secondary School North Nazma bad Karachi.

These are 5 schools. No teachers at all , No clean enviornment , Laboraties are full of dirt and garbage instead of Instruments.
YOu can join me on my facebook page.
http://www.facebook.com/pages/DR-Furqan-Ali-Khan/251362514875967?ref=hl
Regard.
Furqan Ali khan.
02.02.2013